JANAB E HABIB (as) یہ خط میں شاہؑ نے لکھا حبیب ؑ آجاؤ اے فقیہہِ حسین ؑ اے حبیبِ حسین ؑ حبیب ابن مظاہر ؑ اے فقیہہِ حسین ؑ اے حبیبِ حسین ؑ یہ خط میں شاہؑ نے لکھا حبیب ؑ آجاؤ تمہارا دوست ہے تنہا حسین ہوگیا تنہا ۔حبیب ؑ آجاؤ شہید کیسے ہوا وہ بتاو ٔگے آکر تم حالِ مسلمِؑ بے کس سناؤ گے آکر رُقیہؑ تکتی ہے رستہ ۔حبیب ؑ آجاؤ لگاؤ اس سے بھی اندازے میری غربت کے جہاں پہ ابن علیؑ لکھنا تھاوہاں میں نے دیا ہے ماں کا حوالہ ۔حبیب ؑ آجاؤ بتا رہا تھا اُسے کوئی بھی نہیں ہے میرا تو بولی ثانیٔ زہراؑ حبیب ؑ آئے گا ہے اُس کو تم پہ بھروسہ ۔حبیب ؑ آجاؤ وہ جب یہ سنتی ہے کوفے سے آرہے ہیں شقی تو پوچھتی ہے ہمارا بھی آئے گا کوئی دُعائیں دے گی سکینہؑ ۔حبیب ؑ آجاؤ گوارا کر نہیں سکتی حسینؑ کی غیرت تمہاری زوجہ کی چادر کو لوٹ لے اُمت تم اس کو چھوڑ کے کوفہ ۔حبیب ؑ آجاؤ مجھے ہے یاد وہ لمحہ جو رب کی مرضی سے تم ہو کے زندہ میری بات سننے آئے تھے ہاں بُ...