New Nohay 2026 AMEER E LASHKAR E HUSSAIN | Kabeer Rizvi & Joan Rizvi | Sachay Bhai Noha | Muharram Nohay 2026 | Kabeer Rizvi Nohay 2026 | Sachay Bhai Nohay 2026
● AMEER E LASHKAR E HUSSAIN LYRICS ●
حِزبِ رائے دشتِ نینوا، امیرِ لشکرِ حسینؑ
نہنگِ قُلزُمِ وغا، امیرِ لشکرِ حسینؑ
خدنگِ ترکشِ قضا، امیرِ لشکرِ حسینؑ
بہ رنگِ شاہِ لافتیٰ، امیرِ لشکرِ حسینؑ
جری، دلیر، باوفا، امیرِ لشکرِ حسینؑ
وفا بہ حدِّ معجزہ، امیرِ لشکرِ حسینؑ
یہ ذوالفقارِ حیدری، یہ شیرِ بیشۂ نجف
یہ تیغِ تیزِ ہاشمی، نشانِ جُرأتِ سلف
ہر ایک کا مرکزِ نظر، قافلۂ تشنگانِ طف
کنارۂ نہرِ علقمہ، تمام فوج کا ہدف
کسی سے پر نہ رُک سکا، امیرِ لشکرِ حسینؑ
بہادرانہ صف شکن میں اس جری کے تذکرے
دلاورانہ تیغ زن میں اس جری کے تذکرے
ہر ایک وفا کی انجمن میں اس جری کے تذکرے
رسولِ پاکؐ کے چمن میں اس جری کے تذکرے
غرورِ آلِ مصطفیٰؐ، امیرِ لشکرِ حسینؑ
حسینؑ کا اخی بھی ہے، حسینؑ کا غلام بھی
حسینؑ کی سپر بھی ہے، تبر بھی ہے، حسام بھی
حسینؑ کی زرہ بھی ہے، قنا بھی ہے، سہام بھی
حسینؑ حکم دیں اگر تو شمر سے کلام بھی
وگرنہ وہ کجا کجا، امیرِ لشکرِ حسینؑ
حسینؑ اذن دیں اگر ابھی یہ سب کو دیکھ لے
ابھی عراق و شام کو، ابھی حلب کو دیکھ لے
ابھی ابھی یہ کوفیانِ بے ادب کو دیکھ لے
مقابلہ جو آ پڑے تو کل عرب کو دیکھ لے
مثالِ شاہِ لافتیٰ، امیرِ لشکرِ حسینؑ
اشارۂ امام ہو تو فتح میں دھرا ہے کیا
شعاعِ مہر کے لیے یہ شام کی گھٹا ہے کیا
فرات تک نہ جانے دے، کسی میں حوصلہ ہے کیا
علیؑ کے شیر کے لیے یہ جنگِ کربلا ہے کیا
اُلٹ دے تختِ شام کا، امیرِ لشکرِ حسینؑ
یزیدِ بد نہاد سے سکونِ ذات چھین لے
محافظینِ نہر سے حقِ حیات چھین لے
جو مرضیِ حسینؑ ہو، ابھی فرات چھین لے
فرات کیا ہے، یہ وہ ہے کہ کائنات چھین لے
بڑا بلند حوصلہ، امیرِ لشکرِ حسینؑ
مگر یہاں تو حکم ہے کہ بس علیؑ کے شیر، بس
حسینؑ اپنی زندگی سے ہو چکا ہے سیر، بس
قریبِ وقتِ عصر ہے، بس اب میرے دلیر بس
ہمارے کوچ میں کہیں مزید ہو نہ دیر، بس
کرے گا تابہ کے وغا، امیرِ لشکرِ حسین
Comments
Post a Comment