رو رو کے یہ صدا دی مسجد میں فاطمہ نے آے گا میرا مہدی
میں منتظر ہوں اُس کی اب میرا حق دلانے آے گا میرا مہدی
1) اس کو سبھی خبر ہے کس نے ہے در جلایا
تیغ و رسن اٹھا کے ہے کون کون آیا
کس نے گواہ مانگے کس نے دیےے ہیں طعنے آئے گا میرا
2)سنتا ہے وہ صدائیں زینب کی سسکیوں کی
پہنچے گی اس تلک یہ آواز پسلیوں کی
پہلو سے ہاتھ میرا اب مستقل ہٹانے آئے گا میرا مہدی
3)پیشی کے تین گھنٹے اس طرح سے گزارے
چن چن کے کہہ رہی تھی لاش سند کے ٹکڑے
اب جوڑ کر یہ ٹکڑے پھر سے سند بنانے آئے گا میرا مہدی
4)شعلوں میں گِھر گئی جب بنتِ رسول تنہا
دروازہ جب گرا تو اُس نے یہی کہا تھا
فضہ کے ساتھ مل کے در سے مجھے اٹھانے آئے گا میرا
5)تلواریں تازیانے اک ساتھ اٹھ رہے تھے
افسوس فاطمہ پہ جب ہاتھ اٹھ رہے تھے
بس اتنا کہہ رہی تھی سہہ سہہ کے تازیانے آئے گا میرا مہدی
6)یہ ٹوٹی انگلیاں بھی اس کو دکھائوں گی میں
چہرے کا یہ نشاں بھی اس کو دکھائوں گی میں
زخموں کا بن کے مرہم چاہے لگیں زمانے آئے گا میرا مہدی
7)لمحوں میں ہوگئی ہے زہرا غریب ایسے
جب سے لگا طمانچہ دیکھا نہیں حسن نے
بیٹوں كو میرے پھر سے چہرہ میرا دکھانے آئے گا میرا مہدی
8)اتنی ضعیف تھی جب خالی پلٹ رہی تھی
ہر دوسرے قدم پہ اٹھتی تھی بیٹھتی تھی
دیوار و در رلائے زہرا کی اس صدا نے آئے گا میرا مہدی
9)میں دیکھ ہی نہ پائی بیٹوں کے سر پہ سہرے
ارمان ہی رہے ہیں ارمان تھے جو میرے
محسن غریب ماں کی سب حسرتیں مٹانے آئے گا میرا مہدی
Comments
Post a Comment