وقتِ رخصت ہے علی کا اور فضا خاموش ہے
دیکھ کر بالیں پہ زینب کو قضا خاموش ہے
ہاتھ آنکھوں سے لگا کر چومتے بے اختیار
بیٹیوں کے سر کے بوسے لے رہے ہیں بار بار
سامنے سر کو جھکائے باوفا خاموش ہے
آ گیا حیدر کو زھرہ کی غریبی کا خیال
کر دیا دربار میں حاکم نے رد حق کا سوال
دیکھ کر ٹکڑے سند کے فاطمہ خاموش ہے
ہاتھ پٹکے میں علی کے ڈال کر روتی رہی
بار ہا گرتی سنبھلتی خاک پہ بنتِ نبی س
ڈل گئ گردن میں رسی مرتضیٰ خاموش ہے
ذہن میں گونجے کسی لاشے پہ اک بچی کے بین
ہاتھ رکھ کر زینب و کلثوم کے سر پر حسین
بیٹیوں کو کرکے میت سے جدا خاموش ہے
گھر کے آنگن سے جنازہ باپ کا اٹھنے کے بعد
آ گئ زینب کو ماں کی اب مصلیٰ پر جو یاد
آنکھ سے بہتے ہیں آنسو اور دعا خاموش ہے
منتقم نظروں میں ہے غازی کی آنکھوں کا جلال
عابدِ بیمار کی غیرت لیے حیدر کا لعل
کھینچ کر تلوار غیبت میں کھڑا خاموش ہے
مثلِ حیدر کس کنوئیں پہ غیب میں جا جا کے وہ
اپنی تنہائی سے اپنے درد سب کہتا ہے جو
العجل کے شور میں ہل من صدا خاموش ہے
Comments
Post a Comment