سکینہ دیتی تھی صدا بابا
نہ جانے مجھ سے کیا ہوا بابا
ستارہے ہیں اشقیا بابا
میں نے دیکھا ہے یتیموں کو ہمیشہ
پیار کرتی ہے یہ دنیا
مجھ یتیمہ کا مقدر ہے یہ کیسا
بس رلاتا ہے زمانہ
کوئ چادر کھینچتا یے کوئ بندہ
مارتا ہے کوئ درہ
ستم پہ دیکھئے ستم بابا
ہیں اک رسن میں سب حرم بابا
لبوں پہ آ گیا ہے دم بابا
جب بھی تمکو یاد کرتی ہے سکینہ
درے کھاتی ہے حزینہ
پشت زخمی غم سے پر ہے میرا سینہ
لٹ گیا سارا خزینہ
بابا اب لگتا ہے مشکل میرا جینا
مجھکو پہونچا دو مدینہ
ابھی بھی ہوں میں تشنہ لب بابا
میں سوچتی ہوں روز و شب بابا
مجھے ملے گا پانی کب بابا
عالم غربت میں اجڑا ہے مرا گھر
ہائے قسمت ہے مقدر
سو گئے انصار و یاور رن میں جاکر
ہائے قاسم ہائے اکبر
اب کہاں جھولے میں ہے ننھا برادر
مر گیا معصوم اصغر
میں کس سے اپنا غم کہوں بابا
یہ درد کس طرح سہوں بابا
میں کیسے قید میں رہوں بابا
بابا جاں اپنا کرم تم اب دکھاؤ
کربلا سے شام آو
مجھکو آزادی کا پروانہ دلاو
قید خانہ سے چھڑاو
اور مجھے پھر ساتھ اپنے لیکے جاو
بابا آؤ بابا آؤ
پدر کے غم میں اے رضا بابا
کچھ اتنا بچی نے کہا بابا
فضا میں ہے بس اک صدا بابا
A Latmiyyah based on the heart burning cries of a young little orphan from the dungeons of Shaam!
We send our condolences to the Imam (as) of our time on the Martyrdom of Bibi Sakina (SA)
0 Comments