Nohay 2026 RULA KE QATAL KIYA Syed Mohammad Shah Maqtal Imam Hussain Noha 2026 Muharram 1448 Muharram New Nohay 2026/1448 Imam Hussain Shahadat Noha 2026
Recited | Syed Mohammad Shah
Noha | Rula Ke Qatal Kiya - Maqtal e Hussain (as)
Poetry | Syed Haider Rizvi
Audio | RWDS
Video | RIZ RECORD
Graphics | AR Graphics
Album | 2026/1448H
===========================
RULA KE QATAL KIYA LYRICS -
ستم بڑھا کے، ستا کے، رلا کے قتل کیا
حسین تم کو تماشہ بنا کے قتل کیا
چھدا تھا جس سے کلیجہ جنابِ اکبر کا
حسین کو وہی نیزہ دکھا کے قتل کیا
حسین بولے سکینہ معاف کرنا مجھے
کہ شمر نے مجھے سینے پہ آ کے قتل کیا
اُلجھ گئی تھی ستمگر کے ہاتھ میں زلفیں
سر حسین کو ایسے اٹھا کے قتل کیا
کہا صغیر کے ہنسنے کا لے لیا بدلہ
حسین ہم نے تجھے مسکرا کے قتل کِیا
گلے میں ٹانگ کے عباس کے کٹے بازو
انہوں نے شاہ کو خوشیاں منا کے قتل کِیا
وہ بے بسی تھی، وہ بے چارگی، وہ لاچاری
مِرے حسین کو آنکھیں دکھا کے قتل کیا
کبھی گلے کبھی رخسار اور کبھی سر پر
کہاں کہاں پہ وہ خنجر چلا کے قتل کیا
پکارا شمر کے دیکھے تیری بہن تجھکو
ایسی لیے تجھے مقتل میں لا کے قتل کیا
نبی کے لعل کی مظلومیت ہے یہ حیدر
اُسے نبی کی حدیثیں سنا کے قتل کیا
Comments
Post a Comment