KITNI MAZLOOM HAI ZAHRA | Mesum Abbas | New Noha Bibi Fatima Zahra | Ayam e Fatima | 2022

The latest new noha for Bibi Fatima Zahra, ‘KITNI MAZLOOM HAI ZAHRA’ for Ayam e Fatmiyah 2022 by Mesum Abbas is finally here. Please send your Lanat on the Qatil and Dushman of Bibi Zahra (sa).

Noha Credits:
👉Noha: Kitni Mazloom Hai Zahra
👉Reciter: Mesum Abbas
👉Poet: Mazher Abidi
👉Composer: Mesum Abbas Naqvi
👉Backing Vocals: Rajab Ali, Munawwer Ali, Sonu & Monu & Mohsin Hashmi
👉Recorded at ODS Studios Karachi by M. Ovais Qureshi & M. Aamir Qureshi
👉Mixed and Mastered by M. Omar Qureshi (ODS - Karachi)
👉Director: Austin Heins (Austin Heins Productions)
👉Post: Austin Heins
👉Edit : Ali Arman Baltistani (TNA Production) 
👉Art Director/Cover Creatives: Yawer Damani (YAD Graphics)
👉Stills & Artwork Photography: Ali Bilal
👉Social Media Management: Mussaib Sajjad (IND)
👉Web Design: Asad Rizvi (USA)
👉Sarparast & Chief Organizer: Syed Baqar Naqvi (USA)
👉English Subtitles & Translation: Ahmed Virani (USA)

Kitni Mazloom Haiai Zahra Lyrics In Urdu

بعدِ رسوُلِ پاک جو ظُلم وستم ہُوئے
تا مرگ آن کی آنکھ سے آنسو نہیں رُکے
آنکھوں کے گِرد پڑ گئے حلقے بتول کے
یہ ظلم غیر نے نہیں اپنوں نے ڈھائے تھے
صدیاں گزار دیں گئی جاری ہے وہ جفا 
اہلِ عزا تو آج بھی کرتے ہیں یہ بکا 
کتنی مظلوم ہے زہرا

رُوُدادِ غم سناوں ذرا کلمہ گو سنو
تاریخ دے رہی ہے گواہی یہ آپ کو
آئے تھے آگ لے کے درِ سیّدہ پہ جو 
عیسائی بھی نہیں تھے یہودی نہیں تھے وہ
بیبی پی جب گرایا دہکتا ہوا وہ در
اسلام کہہ رہا تھا یہی چیخ مار کر
کتنی مظلوم ہے

خاموش بوُتُراب تھے منشائے کبریا
دربار میں لعین کے پہنچیں جو سیّدہ
حسنین کے سوا کوئی ہمدرد ہی نہ تھا 
سب جاں نثار ہوگئے قاتل کے ہمنوا
جو چھوڑ کر گئے تھے جنازہ رسول کا 
کرتے بھلا رسول کی بیٹی سے کیا وفا 
کتنی مظلوم ہے زہرا

اٹھّارویں برس میں اُٹھائے ہیں یہ محن
دن رات سیّدہ کے کلیجے میں تھی دُکھن
دیکھی گُلوُئےِ حیدرِکرّار میں رسن
روئے حُسین زینب و کلثوم اور حسن
جب تھے علی حِصار میں اُس دن کو روئی ہے 
تنہائیوں میں بیٹھ کے محسن کو روئی ہے
کتنی مظلوم ہے زہرا

کروٹ سے دائیں جانب کبھی سو نہیں سکیں
خوں رک نہیں رہا تھا جو زخمی ہوئی جبیں
ٹُوٹیں جو پسلیاں سکوں تھا کہیں نہیں
اب جی نہیں سکوں گی یہ زہرا کو تھا یقیں
اس درجہ زخم کھائے ہیں قُنفض کی ذات سے 
تسبیح پڑھ نہ پائیں کبھی سیدھے ہاتھ سے
کتنی مظلوم

کُچھ تو بتاو لوگو رُلایا گیا ہےکیوں 
مخدومۂ جہاں کو ستایا گیا ہے کیوں
یہ ظُلم بعدِ مرگ بھی ڈھایا گیا ہے کیوں 
میّت کو فاطمہ کی چُھپایا گیا ہے کیوں

چالیس قبرِ زہرا بنائیں تھیں اس لیئے
زہرا کی قبر کوئی مسلماں نہ دیکھ لے

غُسل و کفن کا وقت جو آیا تو با خدا
مولا کے گھر قیامتِ صُغرا ہوئی بپا
گِریہ علی کا سُن کے یہ زینب نے کی بُکا
جاں سے گُزر نہ جائیں کہیں شیرِ کبریا
یارا رہا نہ ضبط کا رونے لگے علی
پہلوُ کا زخم دیکھ کے کہنے لگے علی
کتنی مظلوم ہے زہرا

مِسمار قبرِ فاطمہ زہرا کو کردیا 
جاری ہے پھر بھی ظُلم کا اُمّت میں سلسلہ
لے لو جو نامِ قاتلِ زہرا تو ہے سزا
صدیوں کے بعد بھی ہے وہی ظلم اور جفا
سوچا کبھی نہیں تھا کہ یہ دن بھی آئیگا
پڑھنا ہے جُرم مرقدِ زہرا پہ فاتحہ
کتنی مظلوم

میثم کے اشک تیرا قلم مظہرعابدی
کر ہی نہیں سکیں گے بیاں وہ ستم کبھی
جو ظلم سہہ گئی ہے وہ بیٹی رسول کی 
تا عُمر میری بی بی عزادار ہی رہی
رو کر حیات کاٹی غموں کی اسیر نے 
لکھّا ہے مرثیوں میں انیس و دبیر نے 
کتنی مظلوم ہے زہرا