Maidan Mein Ali Akbar | Shahbaz Naqvi new noha 2020 | Nohay 2020 | Hazrat Ali Akbar Noha 2020
Noha | ☆ Maidan Mein Ali Akbar ☆
Recited By | Shahbaz Naqvi
Poetry By | Asad Zaidi
Compose By | Ali Gohar Zaidi
Chorus | Trimah Zaidi And Team
Audio Recorded By | Al Baqei Studio
Video & Editing | Tna Production
Noha Shahadat e Ali Akbar 2020 - Ayyam e Aza noha 2020/1442 - 5 muharram Noha - Maidan Mein Ali Akbar - Syed Shahbaz Haider Naqvi New Noha 2020 - hazrat Ali Akbar Shahadat Noha - Ali Akbar Noha 2020
Maidan Mein Ali Akbar Lyrics English Text
میداں میں علی اکبر سینہ چھپاتے ہیں
بابا صدایں دیتے ہیں اکبر نہ آتے ہیں
☆ کربوبلا میں ظلم کی حدکسی ہوگئ
برچھی لگی تو نارہ اکبر تھا یہ علی
کیسے بتایں کیا دل اکبر کا حل تھا
پشت فرص پے شکر کا سجدہ کمال تھا
☆ اکبر کے قاتلموں سے تھا شببر کا کلام
بتلادو ہے کہاں میرا یوسف سا لالا فام
دیکھا ہے تم نے اوج کمال شباب کو
میرے جواں شبیہ رسلات ماب کو
☆ شببر کی صداتھی کے مارو نہ برچھیاں
اس کے بغیر جی نہ سکے گی غریب ماں
انسانیت کو ہاتھ سے چھوڑو نہ ظالموں
زہرہ کے گھر کا پھول ہے چھوڑو نہ ظالموں
☆ سنتے ہے اپنے چاند کی آواز دلفقار
دوڑے حسین کھینچ کے حیدر کی ذولفقار
حیدر کا اب وہ زور بی دیکھلاۓ گا حسین
مقتل سے اپنے چاند کو لے آۓ گا حسین
☆ بیٹے کے پاس بیٹھہ کے کرتے ہیں یہ کلام
کیسے اٹھو گے جسم تو ٹکڑے ہوا تمام
کوئی مدد کو آۓ گا یہ آس بھی نہیں
أے لال اب تو سامنے عباس بھی نہیں
☆ بیٹے کے کان میں جوگئ باپ کی صدا
بہر سلام ہاتھ اٹھیا نا اٹھہ اسکا
دامن عباء کا اب میرے چھرے پے ڈالیے
بابا میرے کلیجے سے برچھی نکالیۓ
☆ حالت پسر کی دیکھ کے شببر نے کہاںں
اے میرے لال ہے یہ مصیت کی انتہا
یہ امتحان فاطمہ کے نور عیں سے
کیسے نکالی جائگی برچھی حسین سے
☆ زینب أدلھر تڑپ کے پکاری یہ حل زاز
کیا اس لئے کیا تھا جوانی کا انتظارر
پالا تھا میں نے خاک میں ملنے کے واسطے
أف یہ گلاب نیزے پے کھلنے کے واسطے
☆ بس اے اسد تمام ہو نوحہ اب بی یہاں
شہباز نوحہ خواں ہے قلم لے کے ہچلیاں
وہ حادسہ ہوا کے جگر چاک ہوا گیا
ماتم کرو کے شاہ سے بیٹا جدا ہوا
میداں میں علی اکبر سینہ چھپاتے ہیں
0 Comments