Editors' Choice

Phir Say Aaghosh Mein Lyrics - Phir Say Aaghosh Mein | Sajjad Zaidi - Mesum Zaidi | Nohay 2021 | پھر سے آغوش میں

 

Phir Say Aaghosh Mein | Sajjad Zaidi - Mesum Zaidi | Nohay 2021 | پھر سے آغوش میں

Phir Say Aaghosh Mein Lyrics | پھر سے آغوش میں

نوحہ

پھر سے آغوش میں لے لوں میں ذرا اصغرؑ کو
دو گھڑی کو ہی سکوں آئے دلِ مادر کو

تھی یہ بانوؑ کی فغاں تیرِ ستم کھائے گا
مجھ کو معلوم ہے یہ رن میں ہی رہ جائے گا
اب نہیں آئے گا مولا یہ پلٹ کے گھر کو

اِس کا چہرہ نہ جھلس جائے مجھے ڈر ہے یہی
تپتے میدان کڑی دھوپ میں میرے والی
لے کے جاتے ہو کہاں پھول سے اِس پیکر کو

اب نہ یہ ہو گا نہ اب اِس کی نشانی ہو گی
راکھ بس ایک جلے جھولے کی باقی ہو گی
روتی رہ جائوں گی میں پیٹ کے اپنے سر کو

گود ویران ہوئی میری ہوا مجھ کو یقیں
لاکھ ڈحونڈوں گی اِسے پر یہ ملے گا نہ کہیں
چین آئے گا کسی پَل نہ دلِ مادر کو

رات بھر جھولے میں پہلو یہ بدلتا ہی رہا
میں نے لوری بھی سنائی نہ مگر یہ سویا
دو گھڑی ٹھہرو سُلا لوں میں ذرا مضطر کو

ایک بھی خیمے میں پائے گی نہ جب اِس کا نشاں
روکے پوچھے گی سکینہؑ میرا بھائی ہے کہاں
یہ بتائو کہ بتائوں گی میں کیا خواہر کو

اپنے اللہ سے کرتی ہوں فقط یہ ہی دعا
جس میں مادر سے جدا ہو کوئی گودی کا پَلا
کوئی ماں دیکھے نہ اب ایسے کسی منظر کو

پاس رکھے اِسے جب شب کا اندھیرا ہو گا
دشتِ پُر ہول میں بھائی تیرا تنہا ہو گا
یہ بتا دے کوئی مقتل میں علی اکبرؑ کو

دل میرا رویا ہے اظہارؔ بڑھا اور ملال
جب کبھی آیا مجھے رخصتِ اصغرؑ کا خیال
روتے پایا ہے کسی کوکھ جلی مادر کو

شاعرِ اہلِ بیتؑ علی اظہارؔ

Comments