- Get link
- X
- Other Apps
Editors' Choice
Posted by
Sameem khan
on
- Get link
- X
- Other Apps
مسدس ’’شبیرؑ کا خیمہ‘‘
یہ ہے شبیرؑ کا خیمہ
اِس نظم کا عنوان ہے شبیرؑ کا خیمہ
اللہ کے انوار کی تنویر کا خیمہ
کُل نبیوں کے ہر خواب کی تعبیر کا خیمہ
ہے حرؑ کے لئے کاتبِ تقدیر کا خیمہ
رزمِ حق و باطل کی یہ پہچان ہوا ہے
اللہ اِسی خیمے میں مہمان ہوا ہے
آئینہِ امکان ہے اِس خیمے کے اندر
منہ بولتا قرآن ہے اِس خیمے کے اندر
ایمان کا ایمان ہے اِس خیمے کے اندر
اللہ کی پہچان ہے اِس خیمے کے اندر
گوہر اسی خیمے میں امامت کے جڑے ہیں
اِس خیمے کے بچے بھی رسولوں سے بڑے ہیں
خیمے کے مکیں صاحبِ اسرار ہیں سارے
ہیں نورِ مبیں، حاملِ انوار ہیں سارے
دیدارِ خدا ہی کے طلبگار ہیں سارے
شبیرؑ پہ مر مٹنے کو تیار ہیں سارے
یہ خیمہ عجب نورِ جلی دیکھ رہا ہے
اِک وقت میں یہ کتنے علیؑ دیکھ رہا ہے
یہ خیمہ امامت کا ہے الماس کا خیمہ
حِس جس کو نہ چھو پائے اُس احساس کا خیمہ
عکسِ رخِ اللہ کے عکاس کا خیمہ
ہے ساتھ ہی اِس خیمے کے عباسؑ کا خیمہ
کیوں در پہ نہ بے آس لئے آس کھڑے ہوں
پہرے پہ جہاں حضرتِ عباسؑ کھڑے ہوں
تنصیب ہوئی اِس کی سرِ عالمِ سرمد
سرورؑ نے بچھائی یہاں توحید کی مسند
ممکن ہی نہیں پائے بلندی کی کوئی حد
قوسین سے جا ملتی ہے اِس خیمے کی سرحد
رب جانے کہ یہ کتنی بلندی پہ گڑا ہے
کعبہ یہاں دہلیز پہ سجدے میں پڑا ہے
انوار سے وابستہ ہے یہ خیمہِ انور
داخل نہیں ہو سکتے ہیں بے اِزن پیمبر
ہو اوج میں کعبہ بھلا کیا اِس کے برابر
توحید اُتر آئی ہے اِس خیمے کے اندر
خاک اِس کی ملائک کے لئے تاج ہوئی ہے
اِس خیمے میں معراج کو معراج ہوئی ہے
اِس خیمے میں جتنے ہیں، طلبگارِ خدا ہیں
سب حق کے طرفدار، طرفدارِ خدا ہیں
سرورؑ کے وفادار، وفادارِ خدا ہیں
شبیرؑ کے انصار ہیں انصارِ خدا ہیں
عُشّاقِ خدا عشق کی حد کرنے چلے ہیں
بندے ہیں جو خالق کی مدد کرنے چلے ہیں
سب عشق میں مسرور ہیں اِس خیمے کے اندر
سب امر پہ معمور ہیں اِس خیمے کے اندر
سب قدر پہ مقدور ہیں اِس خیمے کے اندر
سب صاحبِ دستور ہیں اِس خیمے کے اندر
عاشور سے پہلے جو سرِ عرش سجی ہے
کرسی وہ خدا کی اِسی خیمے میں لگی ہے
عاشور کی شب اِس کا تھا اعزاز ہی کچھ اور
اُس شب میں تھی اِس خیمے کی پرواز ہی کچھ اور
تھا نور علیؔ خیمے کا انداز ہی کچھ اور
عاشور کی شب اِس کے کھلے راز ہی کچھ اور
عاشور کی شب اِس میں عجب نورِ مبیں تھا
جو ہر جگہ موجود ہے، وہ صرف یہیں تھا

Comments
Post a Comment