- Get link
- X
- Other Apps
Editors' Choice
Posted by
Sameem khan
on
- Get link
- X
- Other Apps
دعائے فرَج ہو عریضہ مِرا
امامِ زمانہؑ سے باتیں کروں
دِکھا کر میں زخمِ دلِ غمزدہ
امامِ زمانہؑ سے باتیں کروں
گھِری ہے مصیبت میں اب زندگی
بڑی آزمائش کی ہے یہ گھڑی
سناؤں اُنہیںؑ حالِ غربت مِرا
امامِ زمانہؑ سے باتیں کروں
وطن میں بپا پھر قیامت ہوئی
ہوئے ذبح جب عاشقانِ علیؑ
بتاؤں کہ لاشوں کا کیا حال تھا
امامِ زمانہؑ سے باتیں کروں
وبا سے پریشاں ہے سارا جہاں
کِسی کو بھی حاصل نہیں ہے اماں
لبوں پر لئے میں دعائے شفا
امامِ زمانہؑ سے باتیں کروں
بحقِّ محمدؐ بحقِّ علیؑ
ہو امداد میری بنِ عسکریؑ!
اُٹھا کر مصلّے پہ دستِ دعا
امامِ زمانہؑ سے باتیں کروں
ہیں بے نور آنکھیں اے شاہِ جہاںؑ!
ہو دیدار ہم کو امامِ زماںؑ!
لبوں پر سجا کر یہی التجا
امامِ زمانہؑ سے باتیں کروں
یہ دنیا تو زندان سے کم نہیں
اماں مومنوں کو نہیں ہے کہیں
ہو وردِ زباں سائباں کی دعا
امامِ زمانہؑ سے باتیں کروں
پڑھوں ناحیہ، آلِ یٰسینؑ بھی
کروں التجا اُنؑ سے تعجیل کی
مصلّے پہ سجدے میں سر ہو مِرا
امامِ زمانہؑ سے باتیں کروں
دل الغوث الغوث پڑھتا رہے
اور ادرکنی ادرکنی کہتا رہے
میں دُوں العجل العجل کی صدا
امامِ زمانہؑ سے باتیں کروں
سرِ کربلا ہو کچھ ایسا کرم
ہو جوہر کے لب پر کلامِ ارمؔ
مقامِ امامِ زماںؑ پر کھڑا
امامِ زمانہؑ سے باتیں کروں

Comments
Post a Comment