New Nohay 2024 | Salam Hurr e Jari Noha | Noha Hazrat Hurr | Owais Hassan New Noha 2024
Title | SALAM HURR E JARI
Reciter | Owais Hassan
Central Idea | Syeda Ailiyah Hider
Poet | Meesum Hasnain
Composition | Ustad Munawar Ali Khan
Opener Recitation & Tehtul lafz | Janab Own Rizvi
AUDIO
Chorus | Own Rizvi & Team
Audio Recording | Hasaan Qurashi
Audio Mixing | O. Qurashi ODS (KHI)
Audio Supervision | Own Rizvi
VIDEO
Director | Qamrain Haider Rizvi
DOP | Sadqain Haider Rizvi
Post & Edit | RIZ Records
Graphic | AH CREATIONS
Digitalisation
Digital partners: Converge Technologies
Digital Optimisation | Samar Jaffri
Social media Team: Syeda Ailiyah Haider & Wafa Abbas Naqvi
Acknowledgement
Special Thanks | My Beloved Father Nasir Hussain Jaffri ,Syeda Shan e Zahra, Fadak Official & Team Durood Productions
#salamhurrejari #companionofhussain #nohay2024 #hazrathurr #muharram2024 #hussainherahega #yaalimadad #karbala #najaf #salamyahussain
~-~~-~~~-~~-~--~-~~-~~~-~~-~--~-~~-~~~-~~-~_______
New Nohay 2024 | Salam Hurr e Jari Noha Lyrics सलाम हुर्र ए जारी नोहा गीत| Noha Hazrat Hurr | Owais Hassan New Noha 2024
● NOHA - L Y R I C S ●
سلام حُرِ جری
ادب نے زہراؑ کے تجھ کو بنادیا علٙوی
سلام ناصرِ سرورؑ ، سلام حرِ جریؑ
لی جو کروٹ شبِ عاشور ضمیرِ حرؑ نے
بو ترابی ہوں گواہی دی خمیرِ حرؑ نے
یاد اُس سمت کیا حرؑ کو امیرِ حرؑ نے
عقل سے دل نے کہا ۔۔۔۔۔ یعنی سفیرِ حرؑ نے
اِک بجھے دیپ سے ٹکرا کے ہوا آتی ہے
العطش کی تِرے کانوں میں صدا آتی ہے
دل کی آواز پہ حرؑ ہونے لگا شرمندہ
نفس سے جنگ پہ خیمے میں ہُوا آمادہ
اٹھ کے بستر سے کہا : 'لعن برائے ہندہ'
اِس براءت سے ہُوا حرؑ میں پھر اک 'حر' زندہ
دامن عصیاں سے کرے پُر یہ نہیں ہو سکتا
ابنِ زہراؑ سے لڑے حرؑ یہ نہیں ہو سکتا
خیمہءِ سیّدِ والاؑ میں تھا کعبے کا حشم
حجرِ اسود سا دِکھا جونؑ کی الفت کا بھرم
چشمِ اصغرؑ سے چھلکتا تھا کرم کا زم زم
اور تھے رکنِ یمانی علی اکبرؑ کے قدم
دل کو احرامِ ندامت جو اُڑھایا حرؑ نے
خود کو پھر قربتِ عباسؑ میں پایا حرؑ نے
لے کے پھر شہؑ سے اجازت گیا مقتل جو دلیر
لوحِ محفوظہ پہ تقدیر کو ملنے لگے پھیر
فوجِ اعداء میں اِسی غل کا تھا غل کافی دیر
لوٹ کے آتا ہے جنگل کو یہ جنگل کا شیر
ایک ہی مرد تھا اُس شام کی افواج کے پاس
وہ بھی اب ہو گیا ہے شاملِ فوجِ عباسؑ
ٹھہرا میداں میں رجز پڑھنے جو وہ نیک انجام
فخر سے حرؑ نے کہا پھیر کے رخ سوئے خیام
" وہ ولیؑ ابنِ ولیؑ ابنِ ولیؑ ، عالی مقام
میں غلام ابنِ غلام ابنِ غلامِ ابنِ غلام "
جھوم کر اپنے تعارف میں یہی کہتا رہا
ھٰذا مِن فضلِ حسینؑ ابنِ علیؑ و زہراؑ
یا علیؑ کہہ کے کیا حرِؑ جری نے حملہ
تیغ کی چھن چھنا چھن میں تھا قضا کا نغمہ
آبِ شمشیر نظر آیا بھڑکتا شعلہ
بھاگنے لگ گیا ہر ایک سقیفے والا
حقِ زہراؑ سے خبردار ، خبردار ہے حرؑ
غاصبوں کو جو جلا دے گی وہ تلوار ہے حرؑ
شور حفّاظ میں تھا حشر کی آیت پھونکو
مردہ ہونے کی کرو نقل ۔۔۔۔ زمیں بوس رہو
کان ہاتھوں سے پکڑ کر یہیں اٹھو بیٹھو
سحر و جادو بھی اگر آتا ہے مت اتراو
ناصرِ شاہؑ ہے ، موسیٰؑ کے عصا جیسا ہے
تم سے سو سانپ نگلنے پہ یہ آمادہ ہے
کیسے حرؑ لڑتا رہا ۔۔۔۔۔ سینہءِ تاریخ میں ہے
زخم کھا کر جو گرا ۔۔۔۔۔ سینہءِ تاریخ میں ہے
المدد کی وہ صدا ۔۔۔۔۔ سینہءِ تاریخ میں ہے
حرؑ نے جو نوحہ پڑھا ۔۔۔۔۔ سینہءِ تاریخ میں ہے
رو کے کہتا تھا کہ ہو جاوں میں قسمت کا دھنی
سانس نکلے تو سرہانے ہٙوں حسینؑ ابنِ علیؑ
شہؑ نے مہمان کو جب خون سراپا دیکھا
خاک پہ ٹوٹا ہُوا عرش کا اِک ٹکڑا لگا
اپنی آغوش میں جب اپنے محب کو رکّھا
کپکپاتے ہوئے پھر خاک پہ حرؑ آ لیٹا ،
میں نے تھا پیاسہ رکھا فاطمہؑ کے پیاروں کو
جلتی ریتی پہ رگڑتا رہا رخساروں کو
آیا رومال کہ رحمت کے پڑے حرؑ پہ قدوم
مہوِ حیرت ہوئے افلاک پہ مہتاب و نجوم
قدسیوں کو بھی ہوئی حرؑ کی فضیلت معلوم
لاشِ حرؑ پہ چلا آیا ہے ملائک کا حجوم
گھومتے گرد ہیں سب مثلِ طوافِ کعبہ
کعبہ پیشانی ہے ، رومال غلافِ کعبہ !
0 Comments