Editors' Choice

Yeh Fatima Sughra sa Ne Lyrics | Rizwan Zaidi | Noha 2022 - 1444

 

Yeh Fatima Sughra sa Ne | Rizwan Zaidi | Noha 2022 - 1444

نوحہ

یہ فاطمہ صغرؑا نے لکھا بھائی کو رو رو کر، کیا تم کو خبر بھیا
تم سب کے بنا جو بھی گزرتی ہے یہاں مجھ پر،کیا تم کو خبر بھیا

ششماہے بنا چین میں پائوں تو بھلا کیسے
اُس کا وہ ہمکنا میں بُھلائوں تو بھلا کیسے
کتنا مجھے تڑپاتی ہے اب یادِ علی اصغرؑ، کیا تم کو خبر بھیا

کیوں مجھ کو یہ لگتا ہے کہ پیاسا ہے وہاں کوئ
اک بوند بھی پانی کو ترستا ہے وہاں کوئ
کب نظروں میں پِھر جاتا ہے سوکھا سا کوئ ساغر،کیا تم کو خبر بھیا

آنکھوں میں بسا رہتا ہے چہرہ وہ سکینہؑ کا
احوال کوئی اب تو بتا دے میری بہنا کا
غمگین یہ دل کتنا ہے جب پاس نہیں خواہر،کیا تم کو خبر بھیا

اِس آس پہ زندہ ہوں کہ آئو گے مجھے لینے
میں کتنی اکیلی ہوں یہ دیکھو تو ذرا آکے
بیٹھی ہوئی دروازے پہ کب سے ہے بہن مضطر،کیا تم کو خبر بھیا

لاچاری کا مجبوری کا احوال سناتی میں
ماں پاس میرے ہوتیں تو غم اُن کو بتاتی میں
یاد آتی ہیں رہ رہ کے ہی کس طرح مجھے مادرکیا ،تم کو خبر بھیا

آغوش میں جب یادوں کی سر رکھتی ہوں میں بھیا
دل ڈوبنے لگتا ہے تڑپ جاتی ہوں میں بھیا
آنسو جو رواں رہتے ہیں آنکھوں سے میرے اکثر،کیا تم کو خبر بھیا

وعدہ تھا کہ لینے کے لئے آئو گے تم مجھ کو
کہتے تھے یہی بابا سے ملوائو گے تم مجھ کو
کس طرح سے روتی ہوں میں یاد آتے ہیں جب سرورؑ،کیا تم کو خبر بھیا

عباسِؑ دلاور سے ہے ڈھارس میرے بابا کو
چھوڑیں گے نہیں تنہا وہ ہرگز میرے بابا کو
اِس بات کا ہے کتنا بھروسہ مجھے عموں پر،کیا تم کو خبر بھیا

اظہارؔ یہی فاطمہ صغراؑ نے لکھا خط میں
اکبرؑ میرے مانجائے میں بھرتی ہوں یہاں آہیں
کس طرح سے ہر دم ہی رواں دل پہ ہے اب خنجر،کیا تم کو خبر بھیا

شاعرِ اہلِ بیتؑ علی اظہارؔ

Comments