- Get link
- X
- Other Apps
Editors' Choice
Posted by
Sameem khan
on
- Get link
- X
- Other Apps
New Imam Ali Noha | Baba Ka Shikasta Sar | Subbaib Abidi | New Noha 21 Ramzan 2022
جب ھونے لگے رخصت دنیا سے علیؑ مولا
کہنے لگے اے زینبؑ ھے صبر تمہیں کرنا
وہ کربوبلا ھو یا وہ شام ھو یا کوفہ
سب ظلم و ستم سن کر زینبؑ نے کیا نوحہ
بابا کا شکستہ سر دیکھا نہیں جاتا ھے
پھر کیسےمیں دیکھونگی بھائی کےکٹےسرکو
اک آپ کا جانا ہی میں سہہ نہیں پاؤنگی
مرتے ہوئے دیکھونگی کسطرح بہتر کو
جب سے ھے سنا تم پہ تلوار چلی بابا
روتی ہوں تو لگتا ھے پھٹ جائیگا دل میرا
مرجائیگی یہ زینبؑ دیکھےگی جو مقتل میں
شبیرؑ کی گردن پہ چلتے ہوئے خنجر کو
سہہ روز سےاےبابااس گھرمیں جوپھیلی ھے
مجھسے یہ اداسی ہی دیکھی نہیں جاتی ھے
پھر شامِ غریباں میں دیکھونگی بھلا کیسے
جلتے ہوئے خیموں کو اور لٹتے ھوئے گھر کو
بازار میں پہنچوں گی جب ھوکے رسن بستہ
یاد آئیگا زینبؑ کو یہ چومنا شانوں کا
اسوقت مجھے آکر سینے سے لگا لینا
جب دیکھکے رؤنگی بازار کے منظر کو
جب پیاس لگی تم نے شربت دیا قاتل کو
آرام نہ آئیگا اُسوقت میرے دل کو
سہہ روز کے پیاسے کو مارینگے لعیں مل کر
کسطرح بچاؤنگی میں اپنے برادر کو
جب وقتِ سحر تمکو رخصت کیا رو روکر
گھر لوٹ کے آئے تھے تم خون میں تر ھوکر
عاشور کے دن بابا یاد آئیگا یہ منظر
رخصت جو کرونگی میں عباسِؑ دلاور کو
اسوقت میں اے بابا کوفے کی ہوں شہزادی
اک دن اسی کوفےمیں بن جاؤنگی میں قیدی
سر میرا کھلا ھوگا مرجاؤنگی بابا جب
لہرائیگا نیزے پہ ظالم میری چادر کو
زیشان و صبیب جب دنیا سے چلے حیدرؑ
بابا کے جنازے پہ زینبؑ نے کہا روکر
میں کیسے بچاؤنگی بھائی کے جنازے سے
جب شمر چھڑائیگا شبیرؑ کی دختر کو
Comments
Post a Comment