SARDAR KA KALAM LYRICS IN URDU
پیشِ نظر یے آج بھی سردار کا کلام
عشقِ خدا، ولائے علی، طاعتِ امام عج
اس نے کہا تھا اس طرح گردن جھکاوں گا
زہرا س کی خاک پا سے نہ سر کو اٹھاوں گا
جب تک لہو بدن سے نہ بہ جائے گا تمام
مقتل کی زرد خاک پہ خوں میں بھرا ہوا
دیکھا ہے ہم نے ہاتھ وہ اسکا کٹا ہوا
جس نے نجس دہن سے چھڑا کر دکھایا شام
روشن ستارہ قدس کی زخمی جبین کا
عباس ع بن کے زینبِ قلب حزین کا
لیتا رہا یزید کی نسلوں سے انتقام
ہر بے نوا کے واسطے وہ مہربان دست
مثلِ علی یتیم کا دنیا میں سر پرست
ٹوٹے دلوں میں عمر بھر اس کا رہا قیام
اس خوں کی بوند بوند سے روشن دیے ہوئے
اٹھی مہک زمین پہ بکھرے وجود سے
جیسے کسی نے عشق کا چھلکا دیا ہو جام
راہِ وفا میں مکتبِ قاسم کھلا ملا
کاندھے پہ اس نے ہاتھ ہو جیسے رکھا ہوا
ٹھوکر لگی تو بچ گیا گرنے سے یہ غلام
لیکر اسی کی یاد سے کچھ آنسووں کا رزق
آنکھیں بسا رہی ہیں انوکھا جہانِ عشق
دل کی زمیں پہ درد کے لگنے لگے خیام
لشکر میں اسکا مالک اشتر نہیں رہا
رہبر مگر ہے آج بھی تنہا ڈٹا ہوا
مہدی کے دستِ پاک کی تلوارِ بے نیام!
Comments
Post a Comment