Ummat ne Fatima Ko Zakhmoun Sy Bhar Diya Hai Noha Lyrics
Ummat ne Fatima Ko Lyrics:
امت نے فاطمہ کو زخموں سے بھر دیا ہے
بیٹی کا مصطفے کی آخر قصور کیا ہے
کیا صدمے دل پہ ٹوٹے بالوں میں ہے سفیدی
اس عمر میں کسی پر آتی نہیں ضعیفی
زہرا کا سِن ابھی تو اٹھارہ سال کا ہے
یہ شیرِ کبریا کی غیرت کا امتحاں ہے
زخمی غریب زوجہ غیروں کے درمیاں ہے
سیلی کبھی لگی ہے درہ کبھی لگا ہے
روتا تھا میرا مولا خود اپنی بےکسی پر
آنکھوں کے سامنے تھا ہر وقت وہی منظر
اک شخص سیدہ پر لوگوں میں ہنس رہا ہے
آ آ کے گھر ستانا پہلو پہ در گرانا
دربار میں بلانا بی بی پہ ہاتھ اٹھانا
کوئی ہمیں بتا دے کس بات کی سزا ہے
تکلیف سے دکھوں کی ہے بےقرار زہرا
اٹھتی ہے بیٹھتی ہے اب بار بار زہرا
قبرِ نبی پہ جانا دشوار ہوگیا ہے
اماں گذر گئیں ہیں حسنین بولے آ کر
یہ کہہ کے اے تکلم مولا گرے زمیں پر
جب فاطمہ نہیں ہے دنیا مین کیا بچا ہے
یٹے گلے لگا کے رو رو کے بولی زہرا
ماں جا رہی ہے بچوں تم کو علی کو سونپا
اور با با کا تمہارے حافظ مرا خدا ہے
Comments
Post a Comment