Poetry By | Janab Dr. Majid Raza Abidi
●● NOHA LYRICS IN URDU ●●
گھر میں جب آگ لگی جلنے لگا دروازہ ●
اور وہ جلتا ہوا در فاطمہ زہرا پہ گرا
ماں پہ گرتا ہوا در دیکھ کے بچّوں نے کہا
ننّھے ہاتھوں سے یہ دروازہ اٹھائیں کیسے ●
اِن بھڑکتے ہوئے شعلوں کو بجھائیں کیسے
دیکھو اے نانا ھے بابا کے گلے میں رسّی ●
صحن میں بے ادبانہ چلے آتے ہیں شقی
ظُلم سے اُن کے ہم امّاں کی بچائیں کیسے
ننّھے ہاتھوں سے یہ دروازہ اٹھائیں کیسے
آپ آٹھ جاتے تھے امّاں کے ادب میں نا نا ●
اُن کو مسند پہ بٹھاتے تو بچھاتے تھے عبا
اِن مسلمانوں کو سب یاد دلائیں کیسے
ننّھے ہاتھوں سے یہ دروازہ اٹھائیں کیسے
چاروں بچّوں نے وہ دروازہ اٹھانا چاہا ●
ہاتھ جلتے رھے اُس پر بھی یہی دھیان رہا
زخمی مادر کو اذیّت سے چھڑائیں کیسے
ننھے ہاتھوں سے یہ دروازہ اٹھائیں
درہ بازو پہ لگا ہے تو لہُو بہتا ہے ●
ہاتھ پہلو پہ ہے رُخسار بھی تو نیلا ہے
خاک کے فرش سے بستر پہ لٹائیں کیسے
ننھے ہاتھوں سے یہ دروازہ اٹھائیں کیسے
پھر کسی گھر کو یہ منظر نہ جہاں دکھلائے ●
بچّوں کے سامنے مادر پہ مصیبت آئے
بچّے کہتے تھے کہ نا نا کو بلائیں کیسے
ننّھے ہاتھوں سے یہ دروازہ اٹھائیں کیسے
روتی ہیں زینب و کلثوم ہے اِک حشر بپا ●
باپ رسّی میں بندھا ماں پہ ہے دروازہ گرا
رسن ظُلم سے بابا کو چھڑائیں کیسے
ننّھے ہاتھوں سے یہ دروازہ اٹھائیں کیسے
جبکہ دروازہ گرا آئی یہ زہرا کی صدا ●
ھو گیا ھے میرا محسن بھی شہید اے فضّہ
بولے حسنین کہ بھای کو بچائیں کیسے
ننّھے ہاتھوں سے یہ دروازہ اٹھائیں کیسے
کم ہے یہ نوحہ جو خامہ نے ابھی لکّھا ہے ●
ہاں مگر زہرا کے اطفال پہ جو گذرا ہے
کرب وہ ماجد و مختار سنائیں کیسے
ننھے ہاتھوں سے یہ دروازہ اٹھائیں کیسے
Our Deepest Condolences on the martydom of Bibi Fatima Zahra(s.a) the daughter of Prophet Muhammad(SAWW) & his household (as), our present Imam, Imam Al-Mahdi (May Allah Hasten His Appearance); and to all the lovers of Holy Ahlul Bayt (as).
Comments
Post a Comment