ZAIN ALI RIZVI | WALLAH NAHI BHOOLAINGE | NEW NOHAY 2021 | 1443
WALLAH NAHI BHOOLAINGE LYRICS
یا حُسین (ع)
وعدہ ہے ہمارا یا فاطمہ زہرا (س) ×2
نہیں بھولیں گے حسین ×4
زہرا نہیں بھولیں گے
واللہ نہیں بھولیں گے
یہ کرب وبلا_ یہ آہ و بُکا
ہم اہلِ عزا نہیں بھولیں گے
ہم تو ماتم کے لیئے خلق ہوئے بنتِ نبی
ذکرِ شبیر ہے فطرت میں عزاداروں کی
بھول سکتے ہی نہیں مجلس و ماتم کو کبھی
یہ غم کی فضا یہ فرشِ عزا
ہم اہل عزا نہیں بھولیں گے
آگ پہ چل کے منائینگے غمِ شاہِ زمن
یہ عُدوُ کیسے مٹائینگے غمِ شاہِ زمن
اپنی نسلوں کو سُنائینگے غمِ شاہِ زمن
زنجیر وقمہ یہ خونی قبا
ہم اہلِ عزا نہیں بھولیں گے
زندگی کُچھ بھی نہیں ماتمِ سرور کے سِوا
بندگی کُچھ بھی نہیں ماتمِ سرور کے سِوا
آگہی کُچھ بھی نہیں ماتمِ سرور کے سِوا
ماتم کی فضا نوحوں کی صدا ہم اہلِ عزا نہیں بھولینگے
جھولا تابوت علم سب ہیں غمِ شہہ کی دلیل
ہر طرف ماہِ محرم میں یہ پانی کی سبیل
نسبتیں ساری شفاعت کے لیئے ہونگی وکیل
غازی سے وفا پرچم کی ہوا
ہم اہلِ عزا نہیں بھولینگے
آپ سے چاہیئے اےبیبی ہمیں اتنا شرف
کربلاء جائیں زیارت کے لیئے شام و نجف
آپ چاہیں تو مسائل ہوں سبھی ایک طرف
اے بحرِ عطا یہ حود و سخا
ہم اہلِ عزا نہیں بھولینگے
اک دن میں لُٹا زینبِ مُضطر کا بھرا گھر
پالا تھا جنہیں گود میں سب ہو گئے بے سر
وہ عصر کا ہنگام وہ شنیر پہ
خنجر
اک ریت کے ٹیلے پہ بُکا کرتی تھی خواہر
ہائے حُسینا ہائے حُسینا
غافل نہ ہوا مقصدِ شبّیر سے مظہر
دن رات رہے آہ و بُکا زین کے لب پر
آنکھوں میں رہا عالمِ ارواح کا منظر
ہے قرض اُسی روز سے یہ ماتمِ سرور
ہائے حُسینا