اۓ خدا، آگیا ماہِ عذا
بسر ہو ماہِ عذا اس طرح خداۓ حسینؑ
ہو ہاتھ سینے پہ لب پر رہیں سداۓ حسینؑ
نمازِ عشق ہے پڑھنی کے باوزو ہوکر
میں انتظار مے ہوں کب مجھے بلاۓ حسینؑ
لرزتے گزرے نبیؐ نینوا کی دھرتی سے
نہ کر سکا کوئ آباد ماں سواۓ حسینؑ
وہ رکھنا دھار گلے پر تھی انتیھاۓ خلیل
یہاں پہ لاشہ اکبر ہے ابتدای حسینؑ
سنا تو شکر کے سجدے میں گر گئیں فروا
جب ایک لاشے کو گیٹیری میں لے کے آئے حسینؑ
جواب کیوں نہی دیتے مجھے علی اکبؑر
بہین کے قط کو اب آخر کسے سنائے حسینؑ
جُھکی ہے شہ کی کمر جبسے تم عباسؑ گئیں
کسے آوز دے بھائی کسے بلاۓ حسینؑ
قدم کو آگے بڈھایا ، کبھی گۓ پیچھے
چلے جو میّتیں بیشیر کو اٹھاۓ حسینؑ
کلیجہ پھٹتا ہے ریحان اور خادم کا
بتولؐ کہتی ہیں جس وقت روکے ہاۓ حسینؑ
Comments
Post a Comment