مورے خواجہ پیا
خواجہ پیا
مورے خواجہ پیا
نیاز و ناز کا کیسا حسین سنگھم ہے
نیاز و ناز کا کیسا حسین سنگھم ہے
جدھر غریب کھڑے ہیں ، ادھر غریب نواز.
تیری ذات پر، تیرے نام پر
خواجہ ہم غریبوں کو ناز ہے۔
تو بڑا غریب نواز ہے۔
تو بڑا غریب نواز ہے۔
تجھے تیرے پیر کا واسطہ
تجھے تیرے پیر کا واسطہ
مجھے خواجہ ایسا نواز دے
مجھے خواجہ ایسا نواز دے
دے دے صدقہ اپنی نگاہ کا
اک نظر غلام پہ ڈال دے
تیرا کام خواجہ نوازنا
تیرا کام خواجہ نوازنا
تو سدا سے بندہ نواز ہے
تو بڑا غریب نواز ہے
تو بڑا غریب نواز ہے
تو بڑا غریب نواز ہے
تو بڑا غریب نواز ہے
میری بات خالی نہ جانے دے
میری بات خالی نہ جانے دے
میری بات کو خواجہ آج رکھ
تیرے در پہ یونہی پڑا رہوں
میری بات کی خواجہ لاج رکھ
تیرا کام خواجہ نوازنا
تیرا کام خواجہ نوازنا
تو سدا سے بندہ نواز ہے
تو بڑا غیرب نواز ہے
تو بڑا غیرب نواز ہے
تو بڑا غیرب نواز ہے
تو بڑا غیرب نواز ہے
سخی اور بھی ہیں جہان میں
تیرے جیسا کوئی سخی نہیں
سخی اور بھی ہیں جہان میں
تیرے جیسا کوئی سخی نہیں
تیرے جیسا کوئی سخی نہیں
جسے تو کرم سے نواز دے
اسے دو جہاں میں کمی نہیں
اسے دو جہاں میں کمی نہیں
بھرو جھولی خواجہ حنیف کی
بھرو جھولی خواجہ حنیف کی
تیرا دستِ جودِ دراز ہے
تو بڑا غریب نوا ز ہے
تو بڑا غریب نوا ز ہے
تو بڑا غریب نوا ز ہے
تو بڑا غریب نوا ز ہے
تو بڑا غریب نوا ز ہے
تو بڑا غریب نوا ز ہے
تو بڑا غریب نوا ز ہے
