اک روز شاہ زادی نے اسما سے یہ کہا
میں جا رہی ہوں ہجرے میں کرنے کو اب دعا
آواز گر نہ آۓ مرے شورو شین کی
بس یہ سمجھنا مر گئی مادر حسین کی
بچے جو آیں لوٹ کے تو پیار کیجئو
مرنے کا میری کچھ بھی نہ اظہار کیجئو
القصہ بند ہو گئی آواز شوروشین
اسما پچھاڑیں کھاتی تھی اور کر رہی تھی بین
اتنے میں آۓ کھیلتے گھر میں حسن حسین
اسما یہ آنسو پونچھ کے کہتی تھیں دل کے چین
کھانا لگا رہی ہوں میں اب کھانا کھایئے
بچے تڑپ کے کہنے لگے یہ بتایئے
تمکو معلوم ہے یہ آج تلک اے اسما
ہمنے کھانا کبھی اماں کے بنا کھایا ہے
کیسی باتیں ہیں عجب ہوتا ہے دل کو صدمہ
ہمنے کھانا کبھی اماں کے بنا کھایا ہے
پہلے بتلاؤ اے اسما کہ کہاں ہیں اماں
لے چلو ہمکو بھی اس وقت جہاں ہیں اماں
کیوں سنائی نہیں دیتی ہمیں اماں کی صدا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاکے اماں سے کہو نور نظر آۓ ہیں
جس پہ قرباں تھیں وہی لخت جگر آۓ ہیں
پھرہمیشہ کی طرح دوڑ کے لپٹایں زرا۔۔۔۔۔۔۔۔
تمکو معلوم ہے کس طرح بلاتی تھیں وہ
اپنے ہاتھوں سے ہمیں کھانا کھلاتی تھیں وہ
چومتی جاتی تھیں الفت سے ہمارا چہرہ۔۔۔۔۔۔۔
ہمنے کھانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گود میں بیٹھ کے انکے ہی سکوں پائیگے
اماں جب کھانا کھلائینگی تو ہم کھائیگے
کس لیے بند ہے اماں کا ابھی تک ھجرہ
ہمنے کھانا۔۔۔۔۔۔۔
کس لیۓ روتی ہو اب جلد بتاؤ اسما
تمکو نانا کی قسم کچھ نہ چھپاؤ اسما
دل دھڑکتا ہے پھٹا جاتا ہے غم سے سینا۔۔۔۔
ہمنے کھانا۔۔۔۔۔۔۔
سن کے بچوں کی فغاں چیخ کے روئیں اسما
آہ لپٹا کے کلیجے سے یہ بولیں اسما
ثکڑے دل ہو گیا سن سن کے تمہارا جملہ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمنے کھانا۔۔۔۔۔۔۔
اے مرے لاڈلوں کیا اس طرح گھبراتے ہیں
جنکی مایئں نہیں ہوتیں وہ نہیں کھاتے ہیں ؟
تمکو اماں کی قسم اب نہ دبارہ کہنا۔۔۔۔۔۔۔
ہمنے کھانا۔۔۔۔۔۔
اب نہ آیئنگی کھلانے کو تمہاری اماں
چھوڑ کر ہمکو سوۓ خلد سدھاریں اماں
اے مرے لاڈلوں اس وقت بجا ہے کہنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمنے کھانا کبھی اماں کے بنا کھایا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
عینی کس طرح سے اس وقت کا لکھے منظر
لاش پر ماں کی یہ کہتے تھے وہ عامر رو کر
کیسے تا زندگی اب کھاینگے کھانا تنہا۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمنے کھانا کبھی اماں کے بنا کھایا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔